ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / چنتامنی تعلقہ کے مختلف عیدگاہوں میں عید الا ضحٰی کی نماز ادا کی گئی

چنتامنی تعلقہ کے مختلف عیدگاہوں میں عید الا ضحٰی کی نماز ادا کی گئی

Wed, 14 Sep 2016 14:29:05    S.O. News Service

چنتامنی:14 /ستمبر(محمد اسلم/ایس او نیوز) تجارتی مرکزچنتامنی کے عیدگاہ قدیم اہل سنت وجماعت،عیدگاہ کولار روڈ دونوں عیدگاہوں کے علاوہ چنتامنی تعلقہ کے مرغ ملہ ہادیگرہ نمکان پلی امباجی درگ محمد پور چنسندرا کیوار صدیقہ مٹھ آنور ودیگروغیرہ گاؤں میں عید الاضحیٰ کی نماز دوگانہ پوری عقیدیت کے ساتھ ادا کی گئی۔

یہاں شہر کے جامع مسجد کے روبرو عیدگاہ میں ہزاروں کی تعدا د میں فرزندان توحید نے شاندار جلوس نکالا اور عیدگاہ قدیم باگے پلی روڈ میں اجتماعی طور پر عید کی نماز ادا کی ۔ عید کی نماز کے بعد فرزندان توحید سے خطاب کرتے ہوئے جامع مسجد کے خطیب وامام علامہ مولانا محمد نیاز احمد رضوی نے کہا کہ مسلمان اللہ اور اس کے رسول ﷺکے احکامات پر عمل کرتے ہوئے اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک اور نیک ہوجائیں تو دنیا کی کوئی طاقت مسلمانوں کی ترقی کو روک نہیں سکتی۔

علامہ موصوف نے کہا کہ اُمت دعوتی ہونے کا احساس کھوچکیہے جس کے نتیجے میںیہ ملت غالب ہونے کے بجائے مغلوب ہوگئی ہے خود اعتمادی کی بجائے بے اعتمادی نے گھر کرلیا یہ اُمت مغلوب ہونے کے لئے نہیں بلکہ اثر انداز ہونے کے آئی تھی۔  مولانا نے مزید کہا کہ کہ زندگی اللہ کی عطا کردہ نعمت ہے اس کو اگر اللہ کے احکام کے مطابق گزارا جائے تو یہ انسانیت کی معراج ہے فکر کی کام یابی ہے مگر جب اس زندگی کو اللہ کی خوش نودی کے بجائے نافرمانی میں گزارا جائے تو یہ زندگی کے ساتھ ظلم ہے اور نا انصافی ہے۔ اللہ کی فرماں برداری کا تقاضا ہے کہ آمادہئ احکام الٰہی ہوا جائے جب رب کا حکم آجائے کہ جان دے دو تو جان دے دینی چاہیے مال کی قربانی مانگی جائے تو اپنا مال راہِ خدا میں نذر کر دیا جائے۔

عیدالاضحی ایک یادگار دن ہے جس دن قوم کی تقدیر چمک اٹھی ایثار کے دیپ روشن ہو گئے اللہ کے ایک عظیم پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم پر قربانی دی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی ان کی جان کی قربانی اور اپنی سب سے عزیز متاع کی قربانی اس درس نے انسانیت کو جذبہئ ایثار دیا اس طرح فکروں کو بیدار کیا زندگی کا قرینہ دیا جاں نثاری کا درس دیا اب بھی اس درس پر عمل کی ضرورت ہے کہ اگر وقت آجائے تو اپنی جان نچھاور کر دو اسلام کے لیے قرآن کے لیے ناموسِ رسالت کے لیے دینِ حق کی شان کے لیے انسانیت کی بقا کے لیے

علامہ موصوف نے مسلمانوں سے خود احتسابی کی دعوت دی اور کہا کہ ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم اپنے اندر ایسا قربانی کا جذبہ رکھتے ہیں یا ہمارے جذبات مردہ ہوگئے ۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم اتنی بھی قربانی نہیں دے سکتے کہ سچ بولیں حق کہیں اسلام کی راہ پر چلیں ،مغربی تہذیب سے بچیں اور اللہ کے احکام کی پاس داری کریں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے وفاداری کریں رسول کونین علیہ الصلاۃ والسلام کے ارشادات کی تعمیل کریں تب ہی ہم سچے مسلمان بنیں گے تب ہی دل کی کلیاں کھلیں گی اور مغرب کی چکا چوند نگاہوں کا نور نہیں چھین سکے گی۔

عید الاضحیٰ کی نماز کے  بعد عید ملاقاتوں کا منظر بھی قابلِ دیدرہا۔عید الضحیٰ کے پیش نظر شہر بھر میں ڈی وائی ایس پی کرشنامورتی کے نگرانی میں پولیس کا معقول بندوبست کیا گیا تھا۔


Share: